"ماب لنچنگ انسانیت سوز حرکت۔بے شرم سیاست"


خالد سیف اللہ موتیہاری 

ہمارا ملک ہمیشہ سے ہی امن کا گہوارا رہا ہے۔ جہاں پر صدیوں سے مختلف بولیاں بولنے والے، مختلف عقائد اور مذاہب کے ماننے والے اتفاق واتحاد کے ساتھ ایک دوسرے کے خیالات ،پسند ،بولیوں اور مذاہب کا احترام کرتے ہوئے رہتے آئے ہیں۔ دوستی ،ہمدردی اور عالمی برادری کے انسانیت پرور جذبات کے حامل اس دیش واسیوں کے یگانگت واپنائیت کا ڈنکا سارے عالم میں بجتارہا ہے۔ 
مگر آج کل ہمارے گنگا جمنا تہذیب والے بھارت میں ایک انسانیت سوز حرکت یعنی "ماب لنچنگ" کی خبریں امن پسند شہریوں کے دل دہلا رہی ہیں۔ سنا جارہا ہے کہ کچھ شر پسند عناصر کچھ افواہیں پھیلاکر ہمارے معاشرے کی فضا پراگندہ کرنے لگے ہیں نتیجتاً  عام شہریوں میں کسی خاص فرقے یا خاص شخصیات کے خلاف غلط فہمی ہو جاتی ہے۔ جس کے سبب کہیں ایک بھیڑ جذبات میں بھر کر اس پر ہلا بول دیتی ہے اور اس کا ناحق قتل کردیتی ہے۔ دراصل یہ شرپسند عناصر کے کچھ سیاسی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ جو کہ نفرت کی سیاست سے ہمارے ملک کو منتشر کرنے کے در پر ہیں۔ 
   فیکٹ انڈیا کی سروے رپورٹ کے مطابق 2014 تا 2019 تک ماب لنچنگ اور ہجومی تشدد کے 291 واقعات رونماہوئے ہیں۔جس میں 98 معصوموں کی جانیں تلف ہوئی اور 722 بے قصورزخمی ہوئے ہیں۔ جن میں 59 فی صد مسلمان رہے ہیں بقیہ دلت اور دیگر پچھڑے طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ دیگر ذرایعے کے سروے رپورٹس میں یہ تعداد اور زیادہ بتائی گئی ہے۔ ملت ٹائمز کے مطابق مئی 2019 میں بی جے پی دوسری مرتبہ حکومت سنبھالنے کے بعد پتہ نہیں کیوں ماب لنچنگ کے مزید 55 واقعات روشنی میں آئے ہیں۔ ملت ٹائمز کی خصوصی ٹیم کی سروے رپورٹ کے تحت جس دن اس حکومت کے 44 دن مکمل ہوئے اس دن تک پورے ملک میں ماب لنچنگ اور ہجوم تشدد کے کل 55 واقعات رونما ہوچکے تھے۔ اس رپورٹ سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ اس پارٹی کی سرکار کی پہلی مدت کے مقابلے اس مرتبہ ایسے انسانیت سوز حرکات کی شرح میں کئی گنااضافہ ہواہے۔ ماہرین ریاضی کے اندازے  کے مطابق اس سرکار کے پانچ سال کی میاد یعنی کہ 1780 دنوں میں ماب لنچنگ کے 2225 واقعات پیش آئیں گے۔ ظاہر ہے بلاناغہ یومیہ ایک سے زائد ماب لنچنگ کے واقعات کی خبریں سننے کو ملیں گیں۔
   اس ماب لنچنگ کی زد میں آنے والوں میں چند بدنصیب معصوم  مندرجہ ذیل ہیں۔
حافظ قرآن ’’جنید خان ‘‘دہلی سے اپنے گھر لوٹ رہے تھے، ان کی ٹوپی اور لباس کا مذاق اڑایا گیا، بات بڑھتے بڑھتے چاقو سے حملے تک پہنچ گئی اور وہ معصوم اپنے دو بھائیوں کو شدید زخمی حالت میں چھوڑ کر اللہ کو پیارا ہو گیا۔
سید پور کی ’’گل بہار‘‘کے شوہر ’’افروز ‘‘ کو شمبھوناتھ نے قتل کیا اور اسے آگ لگا کر جلا دیا،
10ستمبر کو جھارکھنڈ کے ’’تبریز عالم انصاری ‘‘جو کہ یتیم تھااور اس کی شادی کو دو ماہ ہی ہوئے تھے،(  اتفاق سے اس کی بیوی بھی یتیم ہے،)  اس کو دوسرے گاؤں والوں نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا،  رات بھر کھمبے سے باندھ کر رکھا اور پھر پولیس کے حوالے کردیا پولیس نے اسے  فوری طبی امداد دینے  کے بجائے حوالات میں بند کر دیا۔ جب دباؤ ڈالاگیا تو اسپتال لے جایا گیا لیکن اسپتال میں بھی اسے کئی گھنٹے ضروری طبی امداد نہ ملنے پر وہ جاں بحق ہوگیا۔تبریز کی کہانی میں’’جئے شری رام ‘‘ بلوانے کا عنصر غالب ہے۔ جئے شری رام، جئے ہنومان کہنے کے باوجود اسے اتنا پیٹا گیا کہ وہ جان کی بازی ہی ہار گیا،
افسوس اس بات کا ہے کہ اب تک مجرموں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا گیا ہے ۔
اسی طرح  کچھ نفرت پسند لوگ  ملک  کےاتحاد کو ختم کرنے کی مزموم کوشش  کررہے ہیں ۔
ابھی حال ہی میں 17 دسمبر کو اترا کھنڈ میں ایک دھرم سنسد کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں بی جے پی لیڈروں سمیت کئی ہندوتوا رہنماؤں اور شدت پسندوں نے شرکت کی اور اقلیتوں   کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیتے ہوئے نظر آئے ، 
اسی طرح اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہندوتوا کے ’’شلپکار‘‘کہتے ہیں کہ اگر ایک لڑکی کوئی مسلمان لے جاتا ہے تو تم ان کی سو لڑکیوں کو بھگالاؤ۔گوری اور نندیں کی مورتیاں ہر مسجد میں نصب کرنا ہے۔ مسلم عورتوں کو قبروں سے نکال کر ان کا’’بلتکار‘‘کیا جانا چاہئے ،
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے بیانات دینا  جو قانونا جرم ہے،
تو یہ اب تک کھلے عام کیوں گھوم رہے ہیں ؟ 
حکومت کیوں خاموش ہے ؟
کیا قانون 
کی پابندی صرف ا قلیتوں، دلتوں اور بچھڑے طبقات کے لئے ہے؟ " 
"اگر یہی بیان کوئی دلت، بچھڑے طبقے یا اقیلتی فرقےکافرد دیتا" 
 تو اسے اب تک اس  پر  قانونی شکنجاکس دیا گیا ہوتا ۔
حکومت  سے اپیل ہے کہ ایسے شرپسندوں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں پر لگام لگائے اور جو مظلوم ہیں ان کو جلد از جلد انصاف فراہم کرے ــ

ملک کے اتحاد واتفاق کو بنائے رکھنے کے لئے ضروری اقدام لے کر حب الوطنی کا ثبوت پیش کریں۔ اب عوام بھی چند ظالم اور خودغرض سیاست دانوں اور ان کے گندے ارادوں اور اوچھے ہتکھنڈوں کو سمجھنے لگی ہے۔
ہمیشہ ایسے نفسیاتی حربوں سے وہ عوام کےذہن خراب کرکے اپنا الوسیدھا نہیں کرسکتی۔ جب یہ بھولی جنتا اس سیاسی سازش کو سمجھ گئی تویاد رہے پھر ایسے ملک دشمن سیاست دانوں کی ماب لنچنگ کاآغاز اس کے نیک ہاتھوں سے ہونے لگے گا۔ انہیں کا ایجاد کردہ سیاسی ہتھیار آخرکار ان کے خاتمہ کاآلہء کار بن جائے گا۔ جب اگلے انتخابات میں یہ ووٹ مانگنے سڑکوں کی خاک چھانیں گے تو یہی بھولی نادان جنتا ان کی ماب لنچنگ کر کے اپنی بھکمری،غریبی اور بے روزگاری کا بدلہ لے گی۔ جس کادھیان انہوں نے اصل مسائل سے بھٹکاکر اس پر پانچ سال ناجائز حکومت کی ۔جس دیش میں پھوٹ ڈالنے کی راج نیتی انہوں نے کی تھی۔ یہ جنتا سمجھنے لگی ہے۔

Comments