استقامت


خالد سیف اللہ موتیہاری 

لفظ استقامت اسکا معنی آتا ہے  قدم جمائے کھڑے رہنا ۔
دنیا کے اندر کوئی بھی ایسا کام نہیں ہے جو بغیر محنت اور مشقت کے حاصل ہو جائے ، ایسا کوئی کام نہیں ہے 
بلکہ کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کے لیے محنت، مشقت، لگن اور مستقل مزاجی شرط ہے ۔ اور جب انسان کسی   چیز کو حاصل کرنے کیلئے محنت اور کوشش کرتا ہے تو راہ میں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
کبھی اپنوں کی طرف سے تو کبھی  دوستوں کی طرف سے کھرے کھوٹے سننے کو ملتے ہیں  ان تمام باتوں کو سن کر ان سُنی کردینا استقامت کہلاتا ہے ۔ 
اور جو شخص اپنے  عزائم پر ڈٹے رہا تو الله تعالیٰ اس کو  کامیابی عطاء فرما دیتے ہیں ۔

Comments