ناانصافی کا شکار : بابری مسجد ،
یوپی کے شہر ایودھیا میں واقع بابری مسجد جسکی تعمیر ۔
شہنشاہ بابر کے ایک گورنر میر باقی تاشقندی نے 1528ء میں کرایا تھا، اس وقت سے لیکر 1949ء تک بلا تعطل کے اس مسجد میں نماز ہوتی رہی ، اچانک 22 ستمبر 1949ء کو رات کے اندھیرے میں کچھ شرپسندو نے رام چندر جی کی مجسمہ رکھ دی ، اس قابلِ جرم کو پولیس نے تھانے میں درج تو کیا لیکن ان شریروں پر کوئی کاروائی نہیں کی،
اور اس سے بڑھ کر ناانصافی تو بابری مسجد کے ساتھ یہ کیا کہ اس میں تالا لگا دیا ،
1985ء میں جب شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ نےشریعت کے خلاف فیصلہ کیا تھا تو مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحفظ کیلئے مسلمانوں نے ایک زبردست تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت کو پارلیمنٹ سے مسلم مطلقہ قانون پاس کرنا پڑا تھا،
اس کامیابی پر فرقہ پرست بہت ناراض ہوئے ، اور یہ پروپیگنڈہ پھیلانا شروع کر دیا تھا کہ حکومت نے مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ، اس وقت وزیر اعظم راجیو گاندھی کوانکے مشیروں نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ ہندؤں کو خوش کرنے کیلئے بس ایک ہی راستہ ہے کہ آپ ہندؤں کو بابری مسجد میں پوجا کرنے کیلئے اجازت دے دیجیے۔ راجیو گاندھی اس بات پے راضی ہو گئے اور 1986ء کو فیض آباد کے عدالت نے ہندؤں کو خوش کرنے کیلئے بابری مسجد کے دروازے پوجا پاٹ کیلئے کھلوا دیا ،
اس وقت آر ایس ایس کے نگرانی میں رام جنم بھومی آندولن بھی چل رہا تھا یہ تحریک اتنا خطرناک موڑ لیا کہ 6 دسمبر 1992ء کو لاکھوں ہندؤں نے بابری مسجد کو شہید
کردیا،
عدالت نے مسجد میں مورتی رکھنے اور مسجد کو منہدم کرنے کو جرم تسلیم تو کیا لیکن فوری طور پر اس پر ایکشن نہیں لیا ۔ یہ معاملہ عدالت میں یوں ہی کچھوے کے چال سے چلتا رہا یہاں تک کہ 9 نومبر 2019ء کو ہندوستانی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ کے جج چیف جسٹس رنجن گگوئی نے انصاف کا خون کرتے ہوئے وہ اراضی ہندوتوا کے حوالے کر دیا ، اور مسلمانوں کے آنسوں پوچھنے کیلئے پانچ ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت سے دستبردار ہوگیا ،
Comments
Post a Comment