اندھیر نگری

✍️ خالد سیف اللہ موتیہاری

غریب گھرانے میں آنکھ کھولنے والی صابیہ بچپن سے ہی ذہین و فطین تھی۔
والدین نے اس کی ذہانت اور تعلیمی شعق دیکھتے ہوئے اسے اعلیٰ تعلیم دلائی اور محکمہ پولیس میں آفسر بھرتی کروا دیا۔
لیکن والدین یہ کب جانتے تھے کہ یہ بھارت اندھیر نگری ہے۔ یہاں درندے صفت انسان رہتے ہیں۔ یہاں بچیوں کی عزت محفوظ نہیں رہتی۔ یہاں محافظ ہی سب سے بڑے خائن ہیں۔
انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ ہندوستان، یہاں جو بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ کے نعرے لگاتے ہیں۔ ان ہی کے لوگ بیٹیوں کی ساتھ عصمت دری کر تے ہیں۔

یہ ایک سیاہ دن تھا کہ جب صابیہ آفس سے لوٹ رہی تھی، کہ اچانک راستے میں اسے اغوا کر لی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اغواء کرنے کے بعد فرید آباد لایا گیا۔ کہا جارہاہے کہ اغوا کر نے والے اور کوئی نہیں بلکہ پولیس اہلکار ہی تھے۔ اس گروپ کے کچھ بھیڑیوں نے اسکے ساتھ زیادتی کی پھر اس معصوم بہن کے جسم پر بیشمار چاکو کے ضرب لگائے اور بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے بھی آگے ایک اور ان ظالموں نے گھناؤنی حرکت کی جسے لکھتے ہوئے قلم شرما جائے۔
 کہ ان درندوں نے مقتولہ کا سینہ کاٹ کر لاش پھینک دی۔

جب اس واقعے کی خبر پولیس تک پہنچی تو پولیس والوں نے نعش اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دی۔ اور اسکی میڈیکل رپورٹ کو مخفی رکھتے ہوئے اسکے گھر والوں کے حوالے کر دیا گیا۔

المیہ یہ کہ شکایت درج کرانے کیلئے جب اسکے گھر والے پولیس اہلکاروں کے پاس جاتے ہیں تو شکایت درج کرنے سے انکار کردیا جا تا ہے۔
آج دس دن سے اسکے گھر والے احتجاج کررہے ہیں۔ سی بی آئی کی مانگ کر رہے ہیں پر کوئی سنوائی نہیں ہے۔
یہ ہے ہمارے دیش کا حال.!
کہاں ہیں امن پسندی کے نعرے لگانے والے؟
کہاں ہیں انصاف کے دیوتا؟
 افسوس ہے کہ جس ملک میں بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں ہے، انصاف نہیں مل رہا ہے، وہاں کی دلال میڈیا دوسرے ملک کی عورتوں کے حوق کی بات کرتی ہے۔
سوال ہے مودی جی اور امیت شاہ سے کہ آپ لوگ تو بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کے نعرے لگاتے ہیں۔ کیا یہی بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ ہے؟؟ کہ سرے عام عزت لوٹ لی جاتی ہے اور انصاف مانگا جاتاہے تو کوئی سنوائی نہیں ہوتی ؟

لوگوں اب بھی وقت ہے! آؤ متحد ہو کر بلاکسی تفریق کے قانونی طور پر عدالت کا دروازہ کھٹ کھٹایا جائے۔
ورنہ کل کو شاید ہم میں سے کسی ہماری بہن بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہو!

Comments