زرعی قوانین واپس ہوسکتےہیں تو پھر شہریت ترمیمی قانون واپس کیوں نہیں ہوسکتا؟



کار زار  خالد سیف اللہ موتیہاری
کسانوں کی ایک سالہ محنت آخر کار رنگ لائی۔اپنے سیاسی اثرورسوخ پرزعم کرنے والے نریندر مودی جی کو کسانوں کے احتجاج کے آگے آخراپنے گٹھنے ٹیکنے ہی پڑے۔19 نومبر 2021 کو ہمارے ملک کے پردھان منتری نے پرکاش پروکے موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے یہ اقرار کیا کہ اپنی سرکار کی جانب سے بنائے گئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا انہوں نے فیصلہ لے لیاہے۔یہ اعلان انہوں نے اترپردیش میں کئی نئی اسکیموں کی بنیاد رکھنے کے لئے نکلنے سے پیش تر کردیا۔ کیونکہ یو پی میں الیکشن جو ہونے والا ہے اس میں اپنی پارٹی کی جیت کے لئے عوام کی ہمدردی حاصل کرنی ہے۔ لہذا انہیں اپنے کالے کرتوں پر پردھ جو ڈالنا تھا۔انہیں اترپردیش کی عوام کے دل جیتنے تھے۔ خیر کسی حیلے تو یہ اندھے قوانین واپس تو لئے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے محض زرعی قوانین  واپس لئے ہیں  مگر شہریت کے ترمیمی بل کو پاس کرنے پر ابھی ڈٹے کیوں ہیں؟ جبکہ مولانا ارشد مدنی کے مطابق سی اے اے کے خلاف جو تحریک چلی تھی اسی سے ترغیب پاکر کسانوں نے زرعی قوانین کی مخالف ورزی پر کمر باندھی تھی، ظاہر ہے سی اےاے 12دسمبر 2019 کو نوٹیفائی کیاگیاتھااور 10 جنوری 2020سے نافذ العمل قرار دیاگیاتھا۔اس پر پارلمنٹ پر منظوری ملنے کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں بڑے زور شور سے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ اس سی اےاے کا مقصد ہمارے پڑوسی ممالک یعنی افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں ظلم کا شکار ہونے والے بدھوں، پارسیوں، جینوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کو بھارت کی شہریت حاصل کرنے کا حق فراہم کرنا ہے۔ جب کہ وہاں سے آنے والے مسلمانوں کو یہ سہولت نہ ہو۔ سرکار کے اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ یہ مذہب کی آڑ میں سکیولرزم کاخاتمہ اور ملک کی تقسیم کرنا چاہتی ہے۔
ویسے ملک میں ہم آہنگی اور امن وآمان کو باقی رکھنے کے لئے ایسے قانون کو واپس لینا چاہئے ،
 کسانوں کی تحریک سے عوام کو یہ سبق ملتاہے کہ حکومت کے غلط فیصلوں کو آنکھیں بند کرکے تسلیم کرلینے کی بجائے حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنا غلط فیصلہ واپس لے۔ حکومت کو جھکانے کی طاقت عوام کے اتفاق واتحاد میں پوشیدہ ہے۔ اس طاقت ور ملک کے ہر شہری کو اپنی اس طاقت کا بر محل و بر موقع استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے عوام میں ہمارے ملک کے کسانوں کی مانند اپنی پہچان کا یہ شعور پیدا کرنا چاہئے۔

Comments