*سکونِ قلب*


خالد سیف اللہ موتیہاری MdKhalid723792@gmail.com 


دل اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے عطاء کی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے، 
حدیثِ پاک میں آتا ہے:
*قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَةٌ اِذَاصَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّه*
*وَاِذَافَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّه اَلاَوَهىَ القَلْبُ*

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تمہارے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے
تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے معلوم رہے کہ وہ دل ہے:

انسانی جسم میں جس طرح روح اصل ہے اسی طرح اعضاۓ انسانی میں دل اصل ہے اور یہ بادشاہ کے مانند ہے
تمام اعضاء اسکے تابع و فرمانبردار ہیں اور اسکی خواہشات کے مطابق تمام اعضاء کام کرتے ہیں اور اگر یہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے،
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اسی دل کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں دل کے بگڑنے کی نشانی ہے 
(1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا،
(2) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا،
(3) اخلاص نہ ہونا،
(4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا،
(5) مُردوں کو دفن کرنا اور عبرت نہ پکڑنا،

دل کے بگاڑ ہی سے بگڑتا ہے آدمی،
جس نےاسےسنوار دیا وہ سنور گیا،

                 *(دل کی صفائی)*

 جس طرح ہم اپنے گھر میں صفائی پسند کرتے ہیں، ذرا سا بھی کوڑا کرکٹ نظر آئے تو بیوی بچوں کو ڈانٹ دیتے ہیں، ذرا ہم اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں کہ یہ کتنا صاف ہے،  یہ  بھی تو اللہ کا گھر ہے، جس گھر میں ہم کوڑا کرکٹ پسند نہیں کرتے، بھلا اس دل میں  اللّٰہ کیسے آنا پسند کرے گا، فقہ کا مسئلہ بھی ھیکہ جس گھر میں تصویر ہو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے، اسی طرح جس دل میں  کسی کی تصویر بیٹھی ہوگی اللّٰہ رب العالمین اس دل  میں کیسے آنا پسند فرمائیں گے؟
اسلیئے ہمیں سب سے پہلے دل کو صاف کرنا چاہئے کیونکہ جب دل صاف ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں خود بخود اس میں آئیں گی،

          *دل قیمتی کیسے بنتا ہے..؟*

اس دل کو قیمتی بنانے کے لئے اس پر محنت کی ضرورت پڑتی ہے، اس کو  سنوارنا پڑتا ہے، اس سے دنیا کی محبت کو نکالنی پڑتی ہے، الٹی سیدھی خواہشات سے بچنا پڑتا ہے، تب  کہیں جاکر یہ دل سنورتا ہے،
*اس دل کے اندر سے دنیا کی محبت کیسے نکالیں..؟*
اس کے لئے اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھ کر اور ان سے سیکھ کر ذکر کرنا پڑتا ہے تب جا کر یہ دل سنورتا ہے اور اس کو سکون ملتا ہے،   
اللّٰہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں خود ارشاد فرماتا ہے
 الابذکراللہ تطمئن القلوب،
خبر دار : اللّٰہ کی یاد سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے،

                      *(دل کی غذا)*

حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ،
جیسے پیٹ کی غذا الگ ہے ماکولات ومشروبات، اور آنکھ کی غذا الگ ہے مبصرات، اور کان کی غذا الگ ہے، 
مسموعات، اسی طرح دل کی بھی ایک غذا ہے اور وہ ہے "محبت " دل کی غذا محبت کے سوا کچھ نہیں، دل کو اس میں لذت آتی ہے، پھر جس کا محبوب ناقص ہو اس کی لذت بھی تو ناقص ہوگی اور جس کا محبوب ایسا کامل ہو کہ اس سے زیادہ کوئی بھی محبوب نہ ہو تو اس کی لذت سب سے زیادہ ہوگی، ایمان و عملِ صالح اختیار کرنے پر دنیا ہی میں غذائے روحانی یعنی حق تعالیٰ کی محبت کامل عطاء ہو گی اس سے زیادہ دل کی کوئی غذا نہیں، 

            *(اللّٰہ والوں سے محبت)*

اللہ والوں کی محبت کی بدولت اللّٰہ رب العزت کی محبت بندے کو نصیب ہوتی ہے، بندہ اللّٰہ کے محبین میں شامل ہوجاتا ہے، ہم اللّٰہ سے اللّٰہ کی محبت تو مانگتے ہیں، لیکن افسوس کی اللّٰہ والوں کی محبت نہیں مانگتے۔
حضور اقدس ﷺ نے اللّٰہ تعالیٰ سے صرف اللّٰہ کی محبت نہیں مانگی، بلکہ جہاں اللّٰہ کی محبت مانگی ہے وہاں اللّٰہ والوں کی محبت بھی مانگی ہے،
چنانچہ دعا مانگی :
اللهم انى أسٔلك حبك وحب من يحبك (ترمذی)
یا اللّٰہ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور جو تجھ سے محبت کرنے والے ہیں میں ان کی محبت کا بھی سوال کر تاہوں،،

                    *(شدتِ محبت)*

اللّٰہ تعالیٰ کی محبت اگر ہمارے قلب میں اشد ہے تب تو ٹھیک ہے، ورنہ اللّٰہ تعالیٰ کی محبت اشد نہیں ہے تو ہم اللّٰہ کے پورے فرمانبردار بندے نہیں ہو سکتے، اسلئے کہ جب ہم کو  اپنا دل زیادہ محبوب ہوگا تو جہاں ہمارے دل کو تکلیف ہوگی وہاں ہم اللّٰہ کے قانون کو  ٹھکرائیں گے، مثلاً کوئی حسین چہرا سامنے آجائے اور دل چاہتا ہے کہ اسے دیکھیں اور نہ دیکھیں تو دل کو تکلیف ہوگی، تو اگر دل سے خدا پیارا ہے تو دل کو توڑیں گے اور خدا کو راضی کر لیں گے اور اگر دل زیادہ عزیز ہے، اللّٰہ سے محبت کم ہے تو گویا دل زیادہ محبوب ہے اور اگر دل کی محبت اشد ہے تو پھر آدمی گناہوں سے نہیں  بچ سکتا، 
اللّٰہ کی نافرمانی سے بچنے کیلئے قلب میں اللّٰہ تعالیٰ کی محبت کا اشد ہونا ضروری ہے،
(محمود و ایاز کا واقعہ)

مولانا رومی لکھتے ہیں کہ:
ایک مرتبہ سلطان محمود نے اپنے وزیروں کو بلایا اور شاہی خزانے کا سب سے نایاب موتی انکے سامنے رکھا اور وزیروں کو حکم دیا کہ اسکو توڑ دو لیکن ہر وزیر نے کہا کہ حضور یہ بہت قیمتی ہیرا ہے اس کو کیسے توڑیں؟ بہت نقصان ہو جائے گا،
شاہی خزانے میں اس کا کوئی مثل نہیں،
میں اسکو نہیں توڑ سکتا، یہاں تک کہ سب وزیروں نے انکار کر دیا اور معزرت کر لی،
آخر میں جب سلطان محمود نے ایاز کو حکم دیا تو ایاز نے پتھر لیا اور ہیرے کو توڑ دیا پورے ایوانِ شاہی میں شور مچ گیا، سارے لوگ حیران، ارے جاہل کم عقل، نا سمجھ انسان، اتنا بڑا نقصان کر دیا، اب اس کو بادشاہ کی ڈانٹ پڑے گی، بادشاہ خاموش تھا،
تھوڑی دیر کے بعد بادشاہ نے کہا ایاز تو نے موتی توڑدیا..؟
ایاز نے جواب دیا، ہاں اس لیئے کہ یا تو میں موتی کو توڑ تا یا آپ کے حکم کو توڑتا، میری نظر میں آپ کا حکم زیادہ قیمتی تھا، اسلئے میں نے ہیرے کو توڑ دیا اور آپ کے حکم پر عمل کرلیا، 
اس پر بادشاہ بہت خوش ہوا،
اس واقعے سے مولانا رومی یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ اسی طرح ہمارے دل اگر ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹ جائیں لیکن اللّٰہ کا فرمان نہ ٹوٹے دل کر رہا ہے کسی غیرمحرم کو دیکھوں لیکن نہ دیکھو کیونکہ دل سے زیادہ قیمتی اللہ کا فرمان ہے،

             *(اللّٰہ تعالیٰ سے محبت)*

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو چکے تھے، لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ان کو مجنوں سمجھ کر کسی نے پتھر مارا، جس کی وجہ سے خون نکل آیا، ایک آدمی دیکھ رہا تھا، اس نے جب خون نکلتا دیکھا توکہا کہ چلو میں پٹی باندھ دیتا ہوں، لہٰذا اس نے بچوں کو ڈرایا دھمکایا اور ان کے قریب ہوا، وہ دیکھ کر حیران ہوا کہ جو قطرہ بھی خون کا نکلتا ہے وہ زمین پر گرتے ہی اللّٰہ کا لفظ بن جاتا ہے، وہ حیران ہوا کہ اس بندے کے رگ و ریشہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی کتنی محبت سمائی ہوئی ہے کہ خون کا جو قطرہ بھی گرتا ہے وہ اللّٰہ کا لفظ بن جاتا ہے، اس کے بعد اس نے زخم پر پٹی باندھ دی، 
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کی اتنی محبت تھی کہ جب کوئی انکے سامنے اللّٰہ کا نام لیتا تھا تو وہ جیب میں ہاتھ ڈالتے تھے اور جیب سے مٹھائی نکال کر اس بندے کے منہ میں ڈال دیتے تھے، کسی نے کہا کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں کہ لوگوں کے منہ میں مٹھائی ڈالتے ہیں..؟ وہ کہنے لگے کہ جس منہ سے میرے محبوب کا نام نکلے میں اس منہ کو شیرینی سے نہ بھر دوں تو پھر اور کیا کروں، (تذکرةالاولیاء ص 311 تا 312)

پتھر سے ہو خدا سے ۔۔ یا پھر کسی سے ہو،
آتا نہیں ہے چین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت کئے بغیر،
دل بحر محبت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت ہی کریگا، 
لاکھ اس کو بچاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی پر تو مریگا،


تو یہ ہے اللہ تعالی سے محبت: کس قدر سکون ملتا ہوگا اس محبوب کا نام لیکر، آج دنیا میں اگر کسی کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو انسان اسکی یادوں میں گم ہوجاتا ہے اور کہتا ہے اس نام کو سن کر مجھے بہت سکون ملتا ہے، جب دنیا کے محبوب کا یہ حال ہے تو اس محبوب کا نام لینے سے کس قدر سکون ملتا ہوگا جو سَتَّر ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے۔ 

اللہ وہ دل دےجو تیرے عشق کا گھرہو،
دائمی رحمت کا تری۔۔۔۔ اس پر نظر ہو،
دل دے کہ تیرے عشق میں یہ حال ہو اس کا،
محشر کا اگر شور ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو بھی خبر نہ ہو،

اللہ ہمیں اپنی معرفت نصیب فرمائے اور ہم سب کو ان باتوں پر عمل پیرا بنائے ،(آمین)

                         *(شعر)*

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب،
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو،
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا،
 ایسا سکوت جس پر۔۔۔۔ تقریر بھی فدا ہو،
پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے،
 رونا مرا وضو ہو نالہ مری دعاہو،
ہر درد مند دل کو رونا مرا رُلا دے،
بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے،

Comments