مسلم لڑکیوں میں ارتداد کی لہر :
از ✍️ خالد سیف اللہ موتیہاری .
متعلم مدرسہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ ،
شریک عربی پنجم
جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس دور میں امت محمدیہ کو جہاں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہیں میں سے ایک مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا مسئلہ بھی شامل ہے ،
آئے دن اخبارات اور سوشل میڈیا سے یہ خبریں مل رہی ہیں۔ دانشورانِ قوم وملت مفصل مضامین لکھ کر امت مسلمہ کو باربار اس بات سے آگاہ کررہے ہیں کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ، یہ ایک اسکیم کے تحت غیر مسلم نوجوانوں کو ٹرینگ دیگئی ہے کہ وہ مسلم لڑکیوں کو محبت اور دولت کے جھانسے میں ڈال کر انہیں مرتد بنائے ۔ یہ اسلام دشمن تنظیمیں اس پر کئی سالوں سے محنت کر رہی تھی آخر کار اپنے اس دیرینہ مقصد میں کامیاب ہوتی ہوئی نظرآرہی ہیں
اور مسلمانوں کی بھولی بھالی لڑکیاں انکے بچھائے ہوئے جال میں پھنستی چلی جارہی ہیں ،
BBC News, اردو
کے مطابق دھلی میں ایک ادارہ قائم ہے جس سے سال میں لگ بھگ ایک ہزار ایسے جوڑے رابطہ کرتے ہیں جن میں لڑکا لڑکی کے مذاہب مختلف ہوتے ہیں اور انھیں فوری مدد درکار ہوتی ہے۔
یہ ہندو اور مسلم جوڑے ’دھنک‘ نامی اس ادارے سے اس وقت رابطے میں آتے ہیں جب ان کے خاندان ان کی شادی سے انکار کر دیتے ہیں کیونکہ لڑکی اور لڑکے کے مذاہب مختلف ہوتے ہیں۔ مدد حاصل کرنے والے ایسے جوڑوں کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔
یہ ڈرے ہوئے لڑکے اور لڑکیاں چاہتے ہیں کہ ’دھنک‘ سے وابستہ افراد اُن کے خاندان والوں سے بات کریں اور انھیں شادی پر راضی کریں یا بصورت دیگر انھیں قانونی مدد فراہم کریں۔
دھنک کے پاس آنے والے جوڑوں میں سے 42 فی صد مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں سے شادی کی خوہشمند ہوتی ہیں۔
آخر ایسا کیوں ہورہاہے۔۔؟
جب کہ قرآن نے صراحت کے ساتھ مشرک مرد و عورت کے ساتھ نکاح کو منع بتایا ہے، ارشاد باری ہے: وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ وَ لَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْکُمْ وَ لَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَکُمْ (البقرۃ:۲۲۱)
ترجمہ:اور مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو؛ جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یقینا ایک مومن باندی کسی بھی مشرک عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ مشرک عورت تمہیں پسند آرہی ہو، اور اپنی عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کراؤ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور یقینا ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد تمہیں پسند آرہا ہو۔ ،
اللہ رب العالمین نے اس آیت میں مومن مرد وعورت کو جدا جدا خطاب فرما کر منع کر دیا ہے کہ غیر مسلموں سے شادی نہ کرو ،
لیکن اس کے باوجود بھی آئے دن اس طرح کی خبریں آخبارات کی زینت کیوں بن رہی ہیں؟
اس کے بہت سارے وجوہات ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں ۔
پہلی وجہ والدین کا دین سے دور ہونا۔ جب ماں باپ دین سے دور ہونگے تو ظاہر ہے بچے بھی بے دینی کی طرف زیادہ مائل ہو نگے، اسلئے والدین کو چاہیئے کہ خود دین کو سیکھیں اور بچوں کو بھی دینی تعلیم سے آراستہ کریں اور اس پر عمل کرنے کا پابند بنائیں ،
دوسری وجہ ۔
والدین اپنی اولاد کی شادیاں وقت پر نہیں کرتے ۔جب بچے 27 اور 30 سال کے ہوجاتے ہیں تب انکی شادی کی جاتی ہے جب کہ لڑکے اور لڑکیاں 16 اور 17 سال میں بالغ ہو جارہے ہیں ،
تیسری وجہ ۔
مخلوط تعلیم ہے ۔ ہمارے ملک میں بہت ہی کم ایسی جگہیں ہیں جہاں لڑکے اور لڑکیوں کا الگ الگ تعلیمی ادارے ہیں ۔ ورنہ اکثر جگہوں پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ مخلوط تعلیم گاہیں ہیں ۔ جہاں لڑکے لڑکیاں ایک ہی کلاس میں تعلیم پاتے ہیں۔
تو ظاہر"جب دینی تعلیم سے بے بہرہ نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک جگہ جمع ہوں تو اس عمر کاتقاضہ یہی ہے کہ وہ بہک جآئیں۔ "
چوتھی وجہ ۔
موبائل ہے ۔ آج کل آن لائن تعلیم کے چکر میں والدین اپنے بچے اور بچیوں کے ہاتھ میں موبائل پکڑا دیئے ہیں جسکے فوائد کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں ، موبائل میں زیادہ تر سریل دیکھا جارہاہے جو اکثر پیار اور محبت سے لبریز ہوتے ہیں ۔ جس کو دیکھ کر مسلم لڑکیاں لاشعوری طور پر قبول کرتیں ہیں ،
یہ موبائل بھی غیر مسلم تنظیموں کا ایک خاص ہتھیار ہے اور فیس بک ، واٹس ایپ کے ذریعے بھی مکمل پلاننگ کے ساتھ مسلم لڑکیوں کو پھنسایا جارہا ہے ۔
ان وجوہات کی بنا پر مسلم لڑکیاں شر پسند تنظیموں کے شکار ہو رہی ہیں ،
یہ ایک فتنے کا دور دورہ ہے جس میں باطل قوتیں اسلام کو جڑ سے اکھاڑنے کی مستقل کوششیں کر رہے ہیں ایسے نازک حالات میں والدین کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کی صحیح تربیت کریں اور الله اور رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے کی تلقین کریں ،انہیں سمجھائیں کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی اسی میں ہے ۔ اسکے علاوہ ہر راستہ گمراہی اور انکی بربادی کا سبب بنےگا۔دین اسلام ایک سچا مذہب ہے جو، ایک خوشحال زندگی کی ضمانت دیتاہے۔ جس نے دین پر اندھادھند یقین کیا ،دینی اصولوں پرقائم رہا اس نے فلاح پائی ہے۔۔ ،
Comments
Post a Comment