اسلام میں نجی زندگی کاتحفظ
از خالدسیف اللہ موتیہاری
متعلم مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائےمیر
اسلام ایک مکمل دستور حیات کا نام ہے،جس نے زندگی کے ہرموڑ پر رہنمائی کی ہے۔انسان کے مرنے تک جتنے مراحل پیش آتے ہیں ،دین نےان میں الگ الگ اصول بیان کیے ہیں ،اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے،جوروزمرہ کےمسائل کاحل نکال تاہےاورہزاروں مشکل ترین سوالات کے جواب اسی مذہب میں ملتے ہیں،اس نےنجی زندگی کا تحفظ بھی فراہم کیاہے ،ہرانسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے مخفی حالات کسی پرظاہری نہ ہو۔اس وجہ سے شریعت نے گھروں کو قلعہ کہاہے ۔جس میں غیر کی مداخلت درست نہیں ہے۔لیکن عام مسلمان اس ہدایت سےغافل ہیں۔مغربی تہذیب کی ہوا نے عام مسلمانوں کو اللہ کے اس فرمان سے دور کردیا ہے۔ کبھی کبھی یہی بدنظری ،زناوغیرہ کاسبب بنتی ہیں۔اس لئے قرآن نے دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے کچھ شرطیں ،فراہم کی ہے ۔جس کا لہاظ کرناہرہر شخص کے لئے ضروری ہے،چنانچہ: ارشادِ باری ہے"اےایمان والوں دوسروں کے گھروں میں اس وقت تکا داخل نہ ہو جب تک کہ اجازت نہ لےلواور اہل خانہ کوسلام نہ کرو"
اجازت مانگ نے کا مسنون طریقہ یہ ہےکہ دروازے کے داہنی جانب یابائیں جانب کھڑے ہو کر سلام کرو اور اپنا نام بتاؤ کہ میں فلاں آدمی ہوں اگر اجازت مل جائے تو اندر جاؤ ورنہ لوٹ آؤ،
کیون کہ پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:کہ جب کوئی تم میں سے تین بار اجازت مانگے؛لیکن اس کواجازت نہ ملے تواسےلوٹ جاناچاہیے۔(بخاری)
اور یہی معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی،لیکن افسوس ہے کہ ہم نے مغربی فیشن میں پڑکر پیارے نبی کی اس آداب کو بھلا دیا،اسی طرح لوگوں کاعیب ٹٹول نا،اوراس کے مخفی عادتوں کو جاننے کی کوشش کرنا، اور اسکی جاسوسی کرنا،تاکہ عیب معلوم ہوجائے تو بدنام کیاجائے،یہ نہایت ہی خراب کام ہے،اللہ نے جاسوسی کرنے اور عیب تلاش کرنے سے منع فرمایا ہے،اورحدیث میں بھی منع کیا گیا ہے بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی کا کوئی عیب معلوم ہوجائے تو پردہ پوشی کرو ناکہ لوگوں کے سامنے بیان کرو،
حضرت عمر فاروق کاایک واقعہ ہے :
کہ ایک مرتبہ دور خلافت میں گشت کررہے تھےتاکہ رعایاکی ضروریات اور مشکلات کوجان سکے ۔چلتےہوئے ایک گھر سے آواز سنی ،دیوارسےجھانک کردیکھاتوایک شخص شراب پی رہاتھا اور اس کی باندی گانا گارہی تھی فاروق اعظم سے برداشت نہ ہوسکا اور دیوار سےکودکراس کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا: توشراب نوشی کرتاہے اور گانا بھی سونتاہے "وہ صاحب غرض کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین مجھے بھی کچھ کہنے کا موقع دیاجائے ، حضرت عمر نے اجازت دے دی،وہ صاحب کہتے ہیں کہ حضور میں نے دوگناہ کئے ایک شراب نوشی کی اور دوسرا نغمےسنےہیں ،
لیکن آپ نے تین احکام کی خلاف ورزی کی ہے،
حکم خداوندی ہے کہ بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا ،آپ بغیر اجازت آگئے ہیں،دوسراحکم خداوندی ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام کرو لیکن آپ نے سلام نہیں کیا،اور تیسرا حکم خداوندی ہے کہ تجسس سے کام نہ لیا کرو لیکن آپ نے تجسس سے کام لیا ہے ،
چنانچہ حضرت عمر نے ان کو معاف کر دیا،اور ان صاحب پریہ اثر ہوا کہ وہ ہمیشہ کیلئے ان باتوں سے توبہ کرلیا،
✧═══════•❁❀❁•═══════✧
اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کی نجی زندگی کو اسلام میں کتنی اہمیت حاصل ہے
Comments
Post a Comment