آسماں تیری لحدپرشبنم افشانی کرے

از قلم خالدسیف اللہ موتیہاری
9 فروری۲۰۲۰؀بروز 
 پیر کو بہارکےمشہورومعروف ادارہ مدرسہ تجوید القرآن خیروا کے سابق ناظم اعلی حافظ حسام الدین صاحبؒ موتیہاری رحمانیہ اسپتال میں دعوت اجل کو لبیک کہا 
اناللہ وانا الیہ رواجعون
مرحوم کافی خوش اخلاق، ملنسار،خوددار،اور بارعب شخصیت کے حامل تھےخالق نےحضرت کی سیرت اور صورت  کوبڑاحسین بنایا تھا اللہ تعالی نے جہاں حضرت کو مالودولت سےنوازاتھا  وہیں پر غریبوں کے غمکساربھی بنایاتھا ہمارے ایک دوست مولوی محمد واسع صاحب آج حضرت کی کارگزاری سناتے ہوے بتارہے تھےکہ حضرت عیداوربقرعیدکے موقع سے ہمارے گاؤں میں غرباء اور مسکینوں کے گھر جاجاکرپیسہ تقسیم کیا کرتے تھے،
 حضرت ہرایک کےساتھ  حسن اخلاقی سےپیش آتے تھے بڑوں پر رحم کرنا چھوٹوں پر شفقت کر نا انکا یہ ایک خاص مشغلہ تھاحضرت یتیم بچوں سےبڑی محبت کرتے تھے،اللہ تعالی نے حضرت کو بہت ذہین بنایا تھا  ایک مرتبہ راقم الحروف 20  رمضان کو کسی ضرورت کی وجہ سے مدرسہ میں آیا ہواتھاکہ اتفاق سےاس دن حضرت مدرسہ ہی میں ٹھہرے ہوئےتھے اتنے میں کسی بچے نے جاکربتایاکہ قاری احمد اللہ صاحب کالڑکاآیاہواہے اتناسنناتھاکہ حضرت نے فورًامجھے دفتر میں طلب کیا جب میں دفتر میں داخل ہوا تومیں نےدیکھاکہ حضرت اپنے مسند پربیٹھے ہوئے ہیں میں نے سلام کیا حضرت نے جواب دیتے ہوئے مجھے حکم دیاکہ کرسی پر بیٹھ جاؤ میں الامرفوقل ادب پر عمل کرتے ہوے chair پرنشست ہوگیا،حال واحوال معلوم کرنے کے بعد استفسارکیاکہ ابھی کہاں پڑھ رہے ہو میں نے جواب دیاکہ ابھی میں سرائے میر میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں اس وقت میں عربی اول میں تھا حضرت نے دریافت کیا کہ کون کون سی کتابیں پڑھ تے ہو۔احقر نے تمام کتابوں کا نام بتایا آپ نے  مجھ سے نحومير میں سوال کیاکہ  افعال ناقصہ کتنے ہیں
 ناچیزنےجواب دیاکہ سترہ ہیں پھر آپ نے فرمایاکہ گناؤ میں ترتیب وار گنایا تو حضرت بہت خوش ہوے اور مجھے پانچ سوکانوٹ بطور انعام دیا آپ فرمانے لگے کہ خالدچالیس سال ہو گئےہیں لیکن نحومیر کااکثر حصہ مجھےزبانی یاد ہے اس بات سے  اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کا قوت حافظہ کتناتیزتھا،آپ ہمیشہ لوگوں ساتھ اچھائی کا معاملہ کرتے تھے،یہی وجہ ہے کہ آپ کی انتقال کی خبرسن کرملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی غمی کااظہار کیاگیا،ایک حدیث پاک میں آپﷺ ارشادفرماتےہیں 
{إنّ الرَّجُلَ لَيدرُكُ بِحُسنِ خُلقِه درجةَقائمِ اللَّيلِ وَصائِمِ النَّهارِ}(ابوداؤد)انسان حسن اخلاق سے وہ درجہ پاسکتاہےجودن بھر روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے پاتے ہیں
ایک اورحدیث میں ہے {خِیَارُکُم أحْسنُکُم أخلاقًا}                      تم میں سب سے اچھا وہ ہے جسکے اخلاق سب سے اچھے ہوں، اپﷺکا ارشاد ہے ۔اللہ کے بندوں میں اللہ کا سب سے پیارا وہ ہے جس کے اخلاق سب اچھے ہوں،ان احادیث میں حسن اخلاق کی جو فضیلتیں ذکر کی گئی ہیں ان کے کچھ آثار حافظ حسام الدین صاحب کی زندگی میں ہم کچھ محسوس کرتے ہیں امید ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک کبھی پسندیدہ بندوں میں سے ہوں گے اور ان کے آخرت کا معاملہ آسان سے آسان ترہوگا ،  مرحوم کےپسماندگان میں دو لڑکے قاری ندیم ظفر صاحب  اور برجش کےعلاوہ ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں،
(شعر)
چھوڑ کے مال ودولت ساری دنیامیں اپنی،
خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ،

Comments