*:حضرت امام حسین ؓ کی شہادت:*



_از خالد سیف اللہ موتیہاری_
_متعلم  مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ یوپی_


دس محرم الحرام اسلامی تاریخ کا ایک مستقل اور انتہائی دردناک باب ہے اس  دن کو ایک ایسا دل خراش اور درد ناک واقعہ پیش آیا ہے جس کو پڑھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں زبان گنگ ہو جاتا ہے کلیجہ منھ کو باہر آنے لگتا ہے،
دس محرم الحرام کو دین و ملت کے محافظ
 و پاسباں اور جنت کے نوجوانوں کے سردار۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دین حق کیلئے اپنی جان اور خاندان کو کربلا کے میدان میں قربان کر دیا، اور آنے والی نسلوں کو یہ درس دیا، کہ ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، اصولوں پر سودے بازی نہ کرنا، ظالم کے آگے ڈر یا موت کے خوف سے سر نہ جھکانا۔اور بے سرتوسامانی کے باوجود بھی ظالم کے سامنے ہمیشہ ڈٹ کر کھڑا رہنا،
حضرت حسین ؓ نے یزید کے سامنے سر کٹانا پسند کیا۔لیکن سر جھکانا گوارا نہیں کیا،
حضرت حسین ؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا تو۔
ابن زیاد نے عمر بن سعد کو حکم دیاکہ۔ حسین اور ان کے رفقاء پر پانی بند کر دو۔ اس نے حسین اور ان کے رفقاء پر پانی بند کر دیا،
سن 61 ہجری میں محرم کے دوسرے دن کو کربلا پہنچے۔ عمر بن سعد کی کمان میں محرم کے تیسرے دن سے فوجیں کوفہ سے اس علاقے میں داخل ہوگئیں۔ محرم کے دسویں دن کی صبح، عاشورہ، حسین ؓ نے اپنی فوج تیار کی اور گھوڑے پر سوار ہو کر ابن سعد کی فوج کو خطبہ دیا اور ان سے اپنا مؤقف بیان کیا۔ لیکن اسے دوبارہ بتایا گیا کہ اسے پہلے یزید کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہو گا۔ اس نے جواب دیا کہ وہ کبھی بھی خود کو غلام کی حیثیت سے سرینڈر نہیں کرے گا۔ یوں کربلا کی جنگ شروع ہوئی
اور خوب لڑائی ہوئی  اسی گھمسان کی جنگ میں نماز ظہر کا وقت آگیا۔
حضرت حسین ؓ کے اکثر رفقاء شہید ہو چکے تھے۔ اور دشمن حضرت حسین ؓ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اسی دوران حضرت ابو شمامہ صائدی نے عرض کیا: کہ میری جان آپ پر قربان میں چاہتا ہوں کے آپ کے سامنے قتل کیا جاؤں لیکن دل چاہتا ہے کہ ظہر کا وقت ہو چکا ہے۔ نماز ادا کر کے اللہ کے پاس جاؤں۔
حضرت حسین ؓ نے با آواز بلند جنگ ملتوی کرنے کو فرمایا یہاں تک کہ نماز ادا کر لیں لیکن ایسی گھمسان جنگ میں کون سنتا۔ طرفین سے لڑائی جاری تھا کہ اسی دوران حضرت ابو شمامہ  شہید کر دیئے گئے۔ اس کے بعد حضرت حسین ؓ نے چند رفقاء کو لیکر نماز ظہر صلوٰۃ الخوف کے مطابق ادا کی۔ نماز کے بعد پھر قتال شروع ہوا۔ اور یکے بعد دیگرے سب شہید ہو گئے آخر میں حضرت حسین ؓ  تنہا بے یارو مددگار رہ گئے۔لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کے ان کی طرف بڑھے۔ یہی کیفیت بہت دیر تک رہی جو شخص آپ کو قتل کرنے جاتا واپس لوٹ جاتا۔ کوئی شخص حضرت حسین ؓ کے قتل اور اس گناہ کو اپنے سرلینا نہیں چاہتا تھا۔
یہاں تک کہ مالک بن نسیر آگے بڑھا اور حضرت حسین ؓ کے سرپر تلوار سے حملہ کیا جسکی وجہ سے شدید زخمی ہو گئے۔ اس وقت حضرت حسین ؓ کی پیاس انتہاء حد کو پہنچ چکی تھی۔ آپ پانی پینے کیلئے دریائے فرات کے کنارے تشریف لے گئے۔ ظالم حصین بن نمیر نے آپ کے منہ پر نشانہ لگا کر تیر پھینکا جو آپ کو لگا اور دہن مبارک سے خون جاری ہوگیا، اس کے بعد شمیر نے دس آدمیوں کو لیکر حضرت حسین ؓ کی طرف بڑھا حضرت حسین ؓ شدید پیاس اور زخموں کے باوجود انکا مقابلہ کر رہے تھے۔ جب شمیر نے دیکھا کہ ہر شخص حضرت حسین ؓ کے قتل سے بچنا چاہتا ہے تو آواز دی کے سب ایکبارگی حملہ کرو۔ اس پر کچھ بدنصیب آگے بڑھے اور تیروں اور تلواروں سے ایکبارگی حملہ کیا
اور حضرت حسین ؓ ان ظالموں کا دلیرانہ مقابلہ کرتے کرتے شہید ہو گئے،
*اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ*
شہادت کے وقت آپ کے جسموں پر تینتیس زخم نیزوں کے اور چونتیس زخم تلواروں کے تھے۔ اس کے بعد حضرت حسین ؓ کے سر کو کاٹ کر کوفہ کے بازاروں میں گھمایا گیا، پھر یزید کے پاس روانہ کردیا گیا، جب سر مبارک کو یزید کے سامنے پیش کیا گیا۔ تو اس وقت یزید کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ اس نے حضرت حسین ؓ کے دانتوں پر چھڑی لگا کر حصین بن ہمام کے یہ اشعار پڑھا جس کا ترجمہ یہ ہے،
"ہماری قوم نے ہمارے لئے انصاف نہ کیا تو ہماری تلواروں نے انصاف کیا۔جنہوں نے ایسے مردوں کے سر پھاڑ دیئے جو ہم پر سخت تھے۔ اور تعلقات توڑنے والے تھے"
اس وقت حضرت ابوبرزہ اسلمی وہیں موجود تھے۔ آپ نے کہا اے یزید تو اپنی چھڑی حسین ؓ کے دانتوں پر لگا تا ہے، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ان کو بوسہ دیتے تھے، یہ کہہ کر ابو برزہ ؓ مجلس سے نکل گئے،

*اللہ پاک نواسہ رسول اللہﷺ  کے صدقے ہماری بخشش و مغفرت فرمائے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بروز قیامت شفاعت نصیب فرمائے.....!!!*
               _آمین ثم آمین_

Comments