*سوانح: حافظ نعیم الدین سمرھیاوی رحـــــــــــــــــمتہ اللہ علیــــــــــــــــــه*


_از قلم خالد سیف اللہ موتیہاری_
_موبائل نمبر 7237922868


ہر کس و ناکس دادا جان کی شخصیت سے بخوبی واقف ہیں کہ آپ کتنی بڑی شخصیت کے حامل تھے۔ بڑی ملنسار، خدار، اور با رعب شخصیت کے مالک تھے۔ طویل عرصے تک حضرت۔ امارت شرعیہ بہار، اڑیشہ، و جھارکھنڈ، پھلواری شریف پٹنہ۔ کے نقیب تھے، یقیناً حضرت کا اس دنیا سے رحلت فرما جانا ہمارے لئے بڑی خسارے کی بات ہے، اس تحریر میں اسی قدسی  صفت انسان کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کیا جا رہا ہے،

*ولادت و نسب:*

حضرت کی پیدائش یکم جنوری 1903ء میں ہوئی۔
آپ کا نسب نامہ کچھ یوں ہے۔ حافظ نعیم الدین، ابن حافظ محی الدین، ابن حافظ ولی محمد، ابن ملنگ خاں،

*گاؤں:*

 آپ بہار کے مشہور، و معروف ضلع مشرقی چمپارن کے ایک چھوٹا سا قصبہ سمرہیا سے تعلق رکھتے ہیں، 

*آبائی وطن:*

حضرت کا آبائی وطن یوپی کےملیح آباد میں تھا لیکن آپ کے دادا جان وہاں سے ہجرت کر کے بہار چلے آئے اور یہیں کے باسی ہوگے،

*تعلیم:*

آپ نے ابتدائی تعلیم گاؤں سے متصل ایک کیلومیٹر کے فاصلے پر ایک بستی واقع ہے (پکڑیا) وہاں حاصل کی۔
حفظ کی تعلیم مدرسہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا مغربی چمپارن( بہار) سے کی، اور عربی تعلیم مدرسہ مفتاح العلوم مؤ میں حاصل کی،

*تدریس:*

 مغربی بنگال کے مدنی پور ضلع کے نندی گرام تھانے کے محمد پور بستی میں کافی عرصے تک تعلیمی خدمات انجام دئیے، اور وہاں ایک مدرسہ قائم کیا جو آج بھی موجود ہے،
اس کے بعد اپنے ہی بستی کے مدرسہ مصباح العلوم سمرہیا میں طویل عرصے تک تعلیمی خدمات انجام دیتے رہیں، 
اس اثناء میں آپ کے ہزاروں شاگرد پھولے پھلے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں،
_شیخ الحدیث حضرت مولانا سراج الحق صاحب قاسمی، پروفیسر امتیاز احمد قاسمی، ہمارے نانا جان، حضرت مولانا شبیر احمد صاحب فتوحہ وی، حافظ شاہ عالم صاحب سمرہیاوی، مولانا نور اللہ صاحب سمراہیاوی، وغیرہ،_
اور طویل مدت تک آپ بستی کے جامع مسجد کے امام رہے، سمرہیا، ہرامنی، پرسوتم پور، اوراسلام پور، کے عیدگاہ کے بھی امام رہے، آپ عوام میں کافی مقبول تھے،

*وفات:*

حضرت عیدالاضحیٰ کے دوسرے دن 20 اگست 2019 بدھ کی شب تقریباً ایک بج کر کچھ منٹ پر اپنی عمر کے ایک سو سولہ برس مکمل کر کے اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے،
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
انتقال کے موقع پر لوگوں کا جم غفیر تھا لوگوں کی کثرت کی وجہ سے وسیع و عریض جنازہ گاہ بھی تنگ پڑگیا، جس کی وجہ سے عید گاہ میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، لوگوں کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا اژدھام اس سے قبل کسی کے بھی جنازہ میں نہیں دیکھا گیا،
 اللہ تعالی آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور آپکے تمام خدمات کو قبول و مقبول فرمائے اور امت کو آپکا بدل عطاء فرمائے اور آپکی قبر کو نور سے منوّر فرمائے...!!! 
(آمین ثم آمین

Comments