"آؤ ہم بھی سیاست میں حصہ لیں
خالد سیف اللہ موتیہاری
وہ جلد سیل حوادث میں ڈوب جائیں گے
جو لوگ وقت کا دھارا بدل نہیں سکتے ،
آج ہم جس نازک دور سے گز رہے ہیں ، اس سے ہم سب خوب واقف ہیں ، لیکن یہ جانتے ہؤئے بھی سیاست سے ہم دست بردار کیوں ہیں؟"
کیا میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفاء راشدین ، صحابہ کرام ،
اور ہمارے اسلاف نے سیاست میں حصہ نہیں لیا؟
توپھر ہم ان کےپیروکار آج سیاست میں حصہ کیوں نہ لیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سیاست کو اخلاق سے گرے ہوئے لوگوں کا شیوا سمجھنے کی غلطی میں ہیں"
"سیاست تو ہمارے نبی ﷺ کا شعار رہا، جوہمیں ہماری وراثت میں ہاتھ لگی ہے
" جس عمل کوہمارے نبی نے اختیار کیا بھلا وہ فضول کیسے ہوسکتاہے۔ ؟"
آپ کے نقش قدم پہ چلنے ہی میں ہماری بہبودی ہے۔
"لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کی اتباع ترک کردی لہذا اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ کہ آج زمانے میں ہم زلیل و خوار ہورہے ہیں۔
لیکن اب وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ہمارے علماء اپنےمذہبی علوم کے ساتھ موجودہ سیاسی وقانونی معاملات سے بھی واقفیت حاصل کرلیں، ہمارادانشور طبقہ سے تال میل قائم۔کریں اور ملک کے پارلمنٹ تک رسائی حاصل کریں تو سرکار پر ملت کابھی دبدبہ قائم ہوگا ورنہ ہماری غیرحاضری کو موجودہ زمانہ ہماری نااہلی ،کمزوری اور بزدلی متصور کرے گا، ہماری ملت کی پیٹھ پیچھے شرپسند قوتوں کوہمارے خلاف زہراگلنے کا موقعہ دستیاب ہوگا اور ہمارے خلاف منصوبہ سازی میں آسانی ہوجائے گی۔"
اکثر ہمارے چند علماء اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ موجودہ سیاست علماء کوزیب نہیں دیتی ، وہ اس طرح اپنی ملی ذمہ داری سے ہاتھ جھاڑ دیتے ہیں وہ کیابھول گئے کہ حضرت عمر فاروق ؓ جو اپنے زمانے میں بائیس لاکھ مربہ میل ، علاقہ کے حاکم تھے وہ ایک مسجد کے امام تھے۔اگر آپ علماء اپنی سیاسی ذمہ داری سے اس طرح دست بردارہوگئے تو قوی امید ہے ملت پستی کا شکار ہی نہیں بلکہ خاتمہ کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ "
"اللہ ہم سبھی کواپنی ملی ذمہ داری کی سمجھ عطا فرمائے۔آمین۔
Comments
Post a Comment