پردہ کی اہمیت


از خالد سیف اللہ موتیہاری
 
آج پورے دنیاکےاندر مسلمان بےحیائی ،نفس پرستی، بدکاری، زناکاری ،عیاری مکاری،فحاشی،اور نہ جانے ایسے ایسے کتنے امراض ہیں،جن میں مسلمان مبتلا ہیں،
آج ہماری مائیں اور بہنیں  کھلے عام سڑکوں پر ٹہل رہی ہیں اور ایسا لباس پہنتی ہیں جسکو دیکھ کر شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے،آج مسلم عورتوں نے پردہ جیسے عظیم نعمت کو پیٹھ پیچھے ڈال کر مردوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھاملا کر چلنے میں اپنےاندر بہت زیادہ فخر محسوس کرتی ہیں،
حالانکہ اسلام میں پردےکا بہت زیادہ حکم دیا گیاہے باری تعالیٰ نے قرآن کریم کےاندر
(پ۔22ع۔4۔آیت۔58) میں ارشاد فرمایا کہ اےنبی تم اپنی بیویوں اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہ دوکہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی تو ان کوستایا نہیں جائے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے،اس آیت میں اللہ تعالٰی نے واضح فرمادیا کہ پردہ صرف ازواجِ مطہرات کے لیے نہیں بلکہ پورے دنیاکےمسلمان عورتوں پر ہے ،
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت کی وجہ سے اپنے گھروں سے نکلے تو اپنے اوپر پردہ ڈال لیا کریں اپنے پورے جسم کو ڈھانک لے سوائے ایک آنکھ کے،
لیکن آج کل کی عورتیں بہت باریک اور چست لباس میں ملبوس ہوکر گھروں سے نکلتی ہیں جب کہ حدیث پاک میں بھی اسکی بہت زیادہ ممانعت آئی ہے،ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے آخری زمانے میں ایسی عورتیں ہوں گی جوکپڑہ پہن کربھی نگی ہوں گی انکے سروں پر(بال) دبلے پتلے بختی اونٹوں کے کوہان کی طرح ہوں گی
 ( انہیں دیکھو تو)
ان پر لعنت بھیجو اسلئے کہ وہ اللہ کے رحمت سے محروم ہوں گی اگر تمہارے بعد بھی کوئی امت ہوتی تو تمہاری یہ عورتیں انکی عورتوں کی ایسی ہی غلامی کرتیں جیسے
تم سے پہلی امت کی عورتیں تمہاری غلامی کرتی ہیں ،(مسنداحمد)
ایک اور حدیث میں ہیکہ حضرت ابو ہریرہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے: کہ دوقسم کے لوگ جہنم میں بدترین حالت میں ہوں گےایک وہ حکمراں جن کے پاس گائے کی دموں کی طرح موٹے کوڑے ہوں گے اور ان سے وہ لوگوں کو مارتے ہوں گے دوسرے وہ عورتیں جو باریک 
(یاچست) کپڑے (پہننے کی وجہ سے کپڑہ)پہن کر بھی نگی ہوں گی جو اجنبی مردوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی ان کی طرف مائل ہوں گی انکے سر بختی اونٹوں کے کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوں گے ،وہ نہ جنت میں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے محسوس کی جا سکے گی ،(مسلم) حدیث پاک میں پردہ کی اتنی اہمیت دی گئی ہے لیکن ہماری مائیں اور بہنیں اس بات کو سمجھتی نہیں ہیں کہتیں ہیں کہ ماڈرن زمانہ ہے،فیشن کا زمانہ ہے ،کتنی افسوس کی بات ہے کل تک تو یہ سب باتیں غیروں کے زبان سے سنا جاتا تھا لیکن آج مسلمانوں کی عورتوں سے سن نےکومل رہا ہے، 
میں امت کی ماؤں اور بہنوں سے گزارش کرتا ہوں،اپیل کرتاہوں،درخواست کررہاہوں،کےتم اپنے گھروں میں محفوظ ہو اسلئے تم اپنے گھروں میں رہا کرو۔خدارا باہر نہ نکلو ،
کیو نکہ زمانہ بہت خراب ہےاگر کسی ضرورت کی وجہ سے نکلو تو نہایت ہی پردے کے ساتھ نکلو،
اللہ ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین ثم آمین،

Comments