تاج محل

✍️خالد سیف اللہ موتیہاری 

تاج محل یہ محبت کی ایک عظیم یادگار ہے. آج بھی یہ اپنی خوبصورتی پر ناز کرتی ہے. دنیا بھر کے لوگ اس سنگ مرمر سے تراشی ہوئی عمارت کو دیکھنے کیلئے  آتے ہیں. محبت کی یہ نشانی مغل بادشاہ  ، شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کیلئے تعمیر کرائی تھی. شاہ جہاں اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتاتھا،شاید کہ اتنی محبت مغل بادشاہ  میں کسی نے کی ہو:

جناب آصف خاں صاحب کی لاڈلی ارجمند بانو تیرہ سال کی عمر میں سلطان جہانگیر کے بیٹے شہزادہ خرم کے عشق میں گرفتار ہوگئی تھی یہ پیار کوئی عام نہیں تھا ،رفتہ رفتہ اس قدر زور پکڑاکہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا بہت مشکل ہو گیا تھا ، آخر کار وہ دن بھی آیا جسکا انتظار کرتے کرتے ارجمند بانو بالکل تھک چکی تھی ، اپریل 1612ء میں شہزادہ خرم سے ارجمند بانوں کی شادی ہوئی شادی کے دن سلطان جہانگیر کے حکم پر پورے آگرہ کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، ارجمند بانو اور شہزادہ خرم کی زندگی نئی مسرتوں سے ہم کنار ہوچکی تھی ۔سرکاری امور کی انجام دہی کے بعد خرم اپنا پیشتر وقت ارجمند بانوں کے ساتھ گزارتا، یہ دونوں اپنی زندگی بہت ہی سرور و لطف سے گزار رہے تھے کہ اچانک شہزادہ کے والد سلطان جہانگیر میواڑ کو فتح کرنے کیلئے اجمیر روانہ ہونے لگا باپ کی محبت میں شہزادہ انکے ہمراہ ہو لیا، جب آگرہ سے روانگی کا وقت آیا تو ارجمند بانوں نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی شہزادہ خرم نے اسے بہت سمجھایاکہ یہ ایک بہت سنگین اور نازک سفر ہے ٬ لیکن ارجمند بانوں اپنے محبوب سے ایک پل کیلئے بھی جدا نہیں ہونا چاہتی تھی ، آخر کار شہزادہ نے اسے بھی اپنے ہمراہ لےلیا، 
اجمیر پہنچنے کے بعد  جہانگیر اور ارجمند بانوں یہ دونوں اجمیر میں ہی ٹھر گئے اور شہزادہ خرم بارہ (12) ہزار فوج لیکر خان اعظم عزیز کو کہ ٬٬ کی جنگی مہم کو تقویت دینے کیلئے روانہ ہو گیا ،جنگ آہستہ آہستہ طول کھینچتی چلی گئی ۔ میواڑ کی خود مختاری  کے دن پورے ہوچکے تھے سامان رسد ختم ہو جانے کے باعث ہر طرف بھوک کے عفریت منہ کھولے کھڑے تھے جو بڑا سنگین مرحلہ تھا اب راجپوتوں کےسامنے دو محاذ تھے ایک طرف طاقتور دشمن اور دوسرا بھوک راجپوتوں کویقین تھا کہ ہموار پہاڑی علاقے مغل فوجوں کو آگے بڑھنے سے روک دیں گے مگر وہ یہ بھول گئے تھے کہ مختلف مقامات پر ناکہ بندی کے بعد ان کے شکم روٹی کے ایک ٹکرے کیلئے ترس گئے تھے ، 
اس صورت حال نے راجپوتوں اور سپاہیوں میں شدید خوف پیدا کر دیا ،
جب خرم راجپوتوں کے تعاقب میں آگے بڑھ رہا تھا کہ اسی دوران اسے خوشخبری ملی کہ اسکے یہاں ایک خوبصورت لڑکی پیدا ہوئی ہے ،
اور ظلی الٰہی نے اسکا نام جہاں آرا  رکھاہے ،
اس خبر کو سن کر شہزادہ کچھ دیر کیلئے خیالوں کی دنیا میں کھو گیا ؛
 جہاں آرا  ایک معصوم بچی اپنے باپ کی آمد کا انتظار کر رہی تھی ، اور باپ خونخوار  ارادوں کے ساتھ دشمن کی پوشیدہ مقام کی طرف بڑھ رھاتھا، تقریبا ایک ماہ تک یہ جنگ چلتی رہی جب راجپوتوں کے پاس سامان بالکل ختم ہو گیا اور بھوک سے مرنے لگے تو آخر کار امر سنگھ نے  مجبور ہو کر  شہزادہ خرم سے صلح کی بات شروع کردی کہ میں تمام عمر مغل شہنشاہ کا وفادار  رہونگا ،
اسطرح جاکر یہ پہلی جنگ شہزادہ خرم نے حاصل کی جب اسکی خبر سلطان جہانگیر کو ملی تو بہت خوش ہوا خرم خوشی میں اپنے باپ سے ملنے کیلئے اجمیر روانہ ہوا تو شہزادہ کے اسقبال میں ۔ جہانگیر باہر آگیاتھا ،
اسکے بعد جہانگیر نے اپنے شہزادے کو جہاں  بہت سارے تحائفوں سے نوازا  وہیں پر  شاہ جہاں کا خطاب بھی  دیا،
شہزادہ ہوتے ہوئے بھی شاہ جہاں کا لقب ایک بے
مثال اعزاز تھا،
اسی طرح بہت سی جنگے ہوئی اور سب میں فاتح ہو کر لوٹتا،  آخر کار وہ دن بھی آیا کہ 
4 فروری 1628ء کو دھارا باغ میں شاہ جہاں کی تاجپوشی ہوئی۔جب شاہ جہاں کے نام کا خطبہ پڑھاجا رہا تھا تو اس کی عجیب کیفیت تھی ، وہ باربار اس فرمان الٰہی کو زیر لب دہرا رہا تھا ، خدا جسے چاہتا ہے عزت دیتاہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتاہے ،
وہ ہر چیز پر قادر ہے اور سارے جہاں کا مالک ہے ٠
تاج پوشی کے بعد تمام امرا نے اپنے سلطان کو حسب استطاعت قیمتی تحائفوں سے نوازا،
پھر جب وہاں سے کچھ دور آگے بڑھا تو حرم سرا میں ارجمند بانوں نے اپنے محبوب کو مبارک باد پیش کی اور بولی ۔ شاہ والا میں آپ کو کیا پیش کروں کہ میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو آپ کے شیان شان ہو ۔ یہ کہ کر ارجمند بانوں رونے لگی ۰
شاہ جہاں بے قرار ہو کر اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔ یہ تمہارا انکسار ہے ارجمند بانوں ورنہ تم نے ہمیں وہ تحفہ پیش کیا ہے کہ اسکے قیمت کا اندازہ نہیں کیاجا سکتا،
آج جو یہ ہیرے جواہرات سے بھرے ہوئے خوان ہیں یہ سب ہمارے نظروں میں بے حقیقت ہے اسکی کوئی قیمت نہیں ۔ لیکن تمہاری محبت دنیا کی سب سے قیمتی نذر ہے تم نے ہمارے خاطر عیش وعشرت کو ٹھکرادی ۔
ہم اس وقت کو کبھی نہیں بھول سکتے جس وقت ہندوستان کی زمین ہمارے لئے تنگ پڑ چکی تھی ،
ایسے نازک وقت میں بس ایک تمہاری ذات ایسی تھی جس نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا  اے کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھی تمہاری جانثاریوں کا قرض ادا کرسکتے ، ہمیں تمام عمر اس بات پر فخر رہے گا کہ ہم تمہاری محبتوں کا مقروض ہیں ،
 ہم سب کے قرض اتار دئے لیکن ہم تمہارا قرض کبھی بھی نہیں اتار سکتے ،
ارجمند بانو نے سر جھکائے بولی شاہِ والا یہ کنیز کل بھی اپنی قسمت پر نازاں تھی اور آج بھی اسے اس قسمت پر فخر ہے مجھے اس کے سوا کچھ نہیں چاہئے کہ زندگی کے ہر معرکہ میں آپ سر بلند اور سرخرو رہیں شاہ جہاں نے اپنے بیوی ارجمند بانو کو دولاکھ اشرفیاں اور چھ لاکھ بطورے تحفہ پیش کیا، اس کے علاوہ دس لاکھ  سالانہ وظیفہ مقرر کیا آٹھ لاکھ روپے اپنے بیٹوں کے لئے مخصوص کر دیئے اخیر میں شاہ جہاں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آج سے ارجمند بانو کو ممتاز محل کے نام سے پکارا جائے، یہ ایک منفرد خطاب تھا، جس سے شاہ جہاں کی بے پناہ محبت کا اظہار ہوتا تھا،
شاہ جہاں نے کہا کہ تم ہماری نظروں میں دنیا کی ساری عورتوں سے ممتاز ہو،
جوش مسرت سے ممتاز کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور وہ دھندلی آنکھوں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھنے لگی جس کے چہرے پر ایک عجیب سی روشنی تھی، ممتاز محل  نے شاہ جہاں کے آنکھوں کو بغور دیکھا، یہ وہی  آنکھیں تھیں جنہوں نے عہد جوانی میں اس کی راتوں کی نیندیں حرام کردی تھیں، اور آج ان ہی آنکھوں میں محبت کا ایک نیا سمندر موجزن تھا۔۔ اسی طرح محبت کا یہ پاکیزہ رشتہ چلتا رہا یہاں تک کہ 7 جون 1631 ۶ کو ممتاز محل سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام گوہر آرا بیگم ہے اس لڑکی کی پیدائش اپنے ماں کیلئے موت کا پیغام لیکر آئی تھی،
جب ممتاز محل کی طبیعت زیادہ علیل چلنے لگی تو اسنے اپنی بڑی بیٹی جہاں آرا بیگم کو حکم دیا کہ شاہِ والا کو فوراً بلاؤ شاید کہ اب میری آخری وقت ہے، جب شاہ جہاں نے ممتاز محل کے قریب پہنچ کر اسے دیکھا تو اپنی چیخ پر قابو نہ پا سکا یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے "ممتاز" ممتاز محل کے چہرے پر موت کے آثار ظاہر ہو رہے تھے، اور اس کی خوبصورت آنکھیں بے نور ہوتی جارہی تھیں، ممتاز نے لڑکھڑائی زبان سے شاہِ والا کہا۔اور بڑی مشکل سے یہ رباعی پڑھی،
*ساعتِ وصال ختم ہوئی اور فراق  کا لمحہ آپہنچا..*
*دنیا کو کیا خبر کہ مصیبت اور جدائی نے آپس میں اتفاق کر لیا ہے...!*
اے میرے محبوب کی آنکھ تو خون کی آنسو بہا۔
کیونکہ ہمارے بچھڑنے کا وقت بہت قریب ہے،
ممتاز محل کی غم انگیز گفتگو سن کر شاہ جہاں اس قدر بے قرار ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے، ممتاز محل اخیر میں جاتے جاتے اپنے محبوب سے بولی کہ بس آخری خواہش خرم ممتاز محل کی آواز ڈوبتی جارہی تھی، کہ میری قبر پر اپنی محبت کی ایک ایسی یاد گار عمارت تعمیر کرانا کہ رہتی دنیا تک اس کی کوئی دوسری مثال پیش نہ کی جا سکے، پھر جب صدیاں گزرنے کے بعد اہل دل کے قافلے ادھر آئیں تو بے ساختہ پکار اٹھیں کہ یہاں ارجمند بانو سو رہی ہے شاہ جہاں کی جان نثار کنیزہ ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی ممتاز کی حالت اور نازک ہو گئی، کہ میں اب جا رہی ہوں، خرم خرم خرم خرم خرم خرم خرم  الوداع " ممتاز کی زبان سے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہورہے تھے، الفراق میرے محبوب میرے آقا، 
پھر دیکھتے ہی دیکھتے خلوص وفا کا زندہ مجسمہ بے جان ہو گیا، موت کے دراز ہاتھوں نے دنیا کی حسین ترین عورت کو مٹی کے ایک ڈھیر میں تبدیل کر دیا،
ممتاز محل کو دریائے جمنا کے کنارے دفن کیا گیا،
انتقال کے وقت ممتاز محل کی عمر بیالیس سال تھی،
شاہ جہاں نے ممتاز محل کی آخری وصیت کے مطابق اس کے قبر پر ایک یاد گار عمارت تعمیر کرایا جو آج پوری دنیا اسے تاج محل کے نام سے جانتی ہے،
یہ عمارت  استاذ عیسیٰ شیرازی کے نگرانی میں تعمیر ہوئی جب تاج محل  کی تعمیر شروع ہوئی تو ہندوستان کے گوشے گوشے سے بہترین معمار طلب کئے گئے جن کی تعداد سینکڑوں تک تھی،
بہر حال اس عمارت کی بنیاد دریائے جمنا کے کنارے جنوب کی طرف رکھی گئی ۔ سب سے پہلے 374 گز لمبا اور 140 گز چوڑا چبوترہ تعمیر کیا گیا، اس کی اونچائی سولہ گز تھی، روضے کا گنبد عمارت کے اوسط میں ہے جس میں خالص سنگِ مرمر کی سلیں پیوند کی گئی ہیں، 
انتہائی بلندی پر گیارہ گز اونچا سونے کا کلس قائم ہے،
جس کی سنہری رنگ سورج کی طرح چمکتی ہے،
زمین کے سطح سے کلس کی بلندی 107 گز ہے،
بڑے گنبد کے نیچے ملکہ ممتاز کی قبر ہے، قبر کے اوپر سنگِ مرمر کا چبوترہ ہے، جس پر قبر کا تعویز بنایا گیا ہے اس کا دروازہ سنگِ ریشم کا ہے،
روضے کے اندر چاروں محرابوں میں آئینے جڑے ہوئے ہیں جن میں سے ایک محراب میں آنے جانے کا راستہ ہے،
مقبرے کے چاروں کونوں پر بیس گز اونچی سنگِ مرمر کی کرسی دی گئی ہے،
اور اس پر 52 گز اونچےسنگِ مرمر کے چار دل آویز مینار  تعمیر کئے گئے ہیں،
ایک روایت کے مطابق یہ عمارت بیس سال میں جا کر مکمل ہوا تھا،
کہتے ہیں کہ اس زمانے میں تاج محل پر تین کروڑ 20لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی ۔ مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ تاج محل پر جاری کام کے سبب سلطنت میں قحط بھی پڑ گیا تھا ؛
جب سفید سنگ مرمر سے تعمیر کردہ یہ عظیم الشان عمارت مکمل ہوئی تو شاہ جہاں نے ممتاز محل کی اس آخری آرام گاہ کو تاج محل کا نام دیا؛

تو یہ ہے وہ تاج محل جس کو دنیا بھر میں محبت کی ایک زندہ علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
 اخیر میں۔میں چلتے چلتے ساحر لدھیانوی کا وہ شعر  بھی لکھتا  چلوں جو بہت مشہور ہے:

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا  لے کر :
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق :

Comments